شادی ضرور کریں مگر اس احتیاط کے ساتھ… ایک چھوٹی سی غلطی اور پوری زندگی کا پچھتاوا ۔ میں ہوں آپ سب کا عثمان…شاید میرے یہ الفاظ آپ کی اور آپ کے کسی عزیز کی زندگی بدل دیں۔

شادی ضرور کریں مگر اس احتیاط کے ساتھ… ایک چھوٹی سی غلطی اور پوری زندگی کا پچھتاوا ۔ میں ہوں آپ سب کا عثمان…شاید میرے یہ الفاظ آپ کی اور آپ کے کسی عزیز کی زندگی بدل دیں۔

شادی ضرور کریں مگر اس احتیاط کے ساتھ… ایک چھوٹی سی غلطی اور پوری زندگی کا پچھتاوا ۔ میں ہوں آپ سب کا عثمان…شاید میرے یہ الفاظ آپ کی اور آپ کے کسی عزیز کی زندگی بدل دیں۔
🩸 ایک خاموش بیماری، جو آواز بن گئی

میں ایک خوش مزاج، ہنستا کھیلتا بچہ تھا۔ کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میری زندگی اسپتال کے بستر، خون کی بوتلوں اور تکلیف کے لمحوں میں گزرے گی۔ مجھے پیدائش کے چند مہینوں بعد ہی تھلیسیمیا میجر کی تشخیص ہوئی۔ لیکن مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ اس کا مطلب کیا ہے — میری زندگی، دوسروں کے خون کی محتاج ہو چکی تھی۔

💉 ہر مہینے خون، اور ہر دن ایک آزمائش

میرے بچپن کا بیشتر وقت ڈاکٹرز، نرسز، اور مشینوں کے ساتھ گزرا۔ ہر پندرہ دن بعد خون کی بوتل، ہر سال مزید ٹیسٹ، اور ہر دن ماں کی آنکھوں میں چھپی ہوئی بے بسی۔ والدین نے ہر ممکن کوشش کی۔ ملازمتیں چھوٹیں، جمع پونجی چلی گئی، لیکن میری زندگی کی گاڑی تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی — بس ہانپ رہی تھی۔

💔 کیا قصور تھا میرا؟ صرف یہ کہ میرے ماں باپ کزن تھے؟

تھلیسیمیا موروثی بیماری ہے۔ اگر والدین شادی سے پہلے ٹیسٹ کرا لیتے، تو شاید میں آج عام بچوں کی طرح اسکول جا رہا ہوتا، کھیل رہا ہوتا، خواب دیکھ رہا ہوتا۔ لیکن میری زندگی دوسروں کے فیصلوں کی قیمت بن گئی۔

😢 میری آواز، ایک پیغام ہے آپ کے لیے

میں اب اس دنیا میں نہیں ہوں، لیکن میری کہانی، میرا درد، شاید کسی اور بچے کو بچا سکے۔
صرف ایک بلڈ ٹیسٹ، صرف ایک قدم — اور آپ ایک نئی زندگی کو تکلیف سے بچا سکتے ہیں۔

🤲 محبت کریں، تو ذمہ داری سے

شادی سے پہلے تھلیسیمیا مائنر کا ٹیسٹ کروائیں۔ یہ صرف ایک طبی معاملہ نہیں، یہ نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔


🩸 تھلیسیمیا — ایک خاموش قاتل

پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زائد بچے تھلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایک پیدائشی خون کی بیماری ہے جس میں جسم میں صحت مند ہیموگلوبن نہیں بن پاتا۔ مریض بچے کو ہر ۲ سے ۴ ہفتے بعد خون کی بوتل لگوانی پڑتی ہے تاکہ وہ زندہ رہ سکے۔

ملک بھر میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد مریض تھلیسیمیا کا شکار ہیں۔ بار بار خون لگوانے سے ہیپاٹائٹس، آئرن اوورلوڈ، دل، جگر اور گردے شدید متاثر ہوتے ہیں۔

تھلیسیمیا کا شکار خاندان ماہانہ ۲۰ سے ۴۰ ہزار روپے صرف علاج پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ بیماری صرف بچے ہی نہیں، پورے خاندان پر ذہنی، جذباتی اور مالی بوجھ ڈالتی ہے۔

اکثر یہ بیماری کزن میرج کی وجہ سے ہوتی ہے، جب دونوں والدین تھلیسیمیا مائنر کے حامل ہوں۔ ایک سادہ خون کا ٹیسٹ شادی سے پہلے یہ بیماری روک سکتا ہے۔





Back to blog