🍗 کراچی کے ہوٹلوں کو سپلائی کیا جانے والا چار ہزار کلو مردہ مرغیوں کا گوشت پکڑا گیا خود کو اور اپنے بچوں کو کسی بھی بڑے نقصان سے بچانے کے لیے یہ چند احتیاطیں لازمی کریں!
Share
🍗 کراچی کے ہوٹلوں کو سپلائی کیا جانے والا چار ہزار کلو مردہ مرغیوں کا گوشت پکڑا گیا خود کو اور اپنے بچوں کو کسی بھی بڑے نقصان سے بچانے کے لیے یہ چند احتیاطیں لازمی کریں!
🚨 کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے کھانے کی پلیٹ میں کیا جا رہا ہے؟ موٹر وے ایم فائیو پر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کارروائی کرتے ہوئے بس سے 4 ہزار کلو مضرِ صحت، مردہ مرغیوں کا گوشت برآمد کرلیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق، 90 من بیمار مرغیوں کا گوشت وہاڑی سے کراچی لے جایا جا رہا تھا — جو مختلف ہوٹلوں میں سپلائی ہونا تھا تاکہ “مزے دار ڈشز” کے نام پر عوام کے سامنے رکھا جا سکے۔
دو ملزمان گرفتار کر لیے گئے اور سارا گوشت موقع پر تلف کر دیا گیا۔ 💀 مردہ مرغی = زہر یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
مردہ یا بیمار مرغیوں کے گوشت میں ای کولائی، سالمونیلا، اور بیکٹیریا کی خطرناک اقسام پائی جاتی ہیں جو: 🩸 فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتی ہیں 💔 جگر اور گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں 🧠 اور بعض کیسز میں دماغی انفیکشن اور فالج تک لے جاتی ہیں
لیکن پاکستان میں؟ نہ کوئی قانونی لائسنسنگ نظام نہ گوشت کی ڈیجیٹل ٹریسنگ نہ ہی عوام میں آگاہی یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، پاکستان میں سالانہ 3 لاکھ سے زائد فوڈ پوائزننگ کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں — جن میں سے بڑی تعداد پولٹری گوشت سے منسلک ہے۔ (Reference: WHO Pakistan Foodborne Disease Burden, 2023) 🔥 ذرا سوچیے… کراچی کے کسی ہوٹل میں آپ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھے ہیں — پلیٹ میں وہی “چکن بروسٹ” یا “چکن تکہ” رکھا ہے جو شاید وہی مردہ مرغی ہو جو موٹر وے پر پکڑی گئی تھی۔
کیا چند روپے بچانے کے لیے ہم اپنی زندگی داؤ پر لگا رہے ہیں؟
🧯 حل کیا ہے؟
✔️ صرف لائسنس یافتہ اور تصدیق شدہ گوشت فروش سے خریداری کریں۔
✔️ گوشت کی بدبو، رنگ اور ساخت پر دھیان دیں — فریز شدہ بدبودار گوشت مت لیں۔
✔️ گھروں اور ہوٹلوں میں آگاہی پھیلائیں کہ “سستا” ہمیشہ “محفوظ” نہیں ہوتا۔
✔️ فوڈ اتھارٹی کی رپورٹنگ ایپس یا ہیلپ لائن پر شکایت ضرور درج کریں۔
اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں اور مزید اہم معلومات کے حصول کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں!