🎯 سندھ میں اسقاط حمل کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ، جن میں سے زیادہ تر غیر محفوظ، غیر منظم اور جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس تباہی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟
Share
🎯 سندھ میں اسقاط حمل کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ، جن میں سے زیادہ تر غیر محفوظ، غیر منظم اور جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس تباہی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟
🧪 خطرے کی گھنٹی: سندھ میں خواتین کی صحت کا بحران سندھ بھر میں ہر سال چار سے پانچ لاکھ اسقاطِ حمل (Abortions) کیے جا رہے ہیں — جن میں سے زیادہ تر غیر محفوظ اور غیر قانونی ہیں۔ ماہرینِ صحت خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تعداد صرف اعدادوشمار نہیں، بلکہ ہزاروں گھروں کے بکھرنے اور ماؤں کے مرنے کی کہانی ہے۔ ڈاکٹر مِہوِش مبارک علی، ڈپٹی ڈائریکٹر (کلینک سیکشن) سندھ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، نے بتایا: “خون کے ضیاع کے لحاظ سے ایک غیر محفوظ اسقاطِ حمل اتنا ہی خطرناک ہے جتنا دس مکمل حمل۔”
یہ صرف علاج کی کمی نہیں، آگاہی کی تباہ کن کمی ہے۔ غذائیت کی کمی، خون کی کمی (Anemia)، اور ناقص خوراک نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
💔 غذائی قلت = ماں کی کمزوری + بچے کی موت تحقیقات کے مطابق سندھ کی 56 لاکھ خواتین میں سے تقریباً 50% غذائی قلت کا شکار ہیں۔ نتیجہ: 🔴 آہنی کمی (Iron deficiency) 🩸 وقت سے پہلے زچگی 👶 کمزور اور کم وزن بچے
اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں اور مزید اہم معلومات کے حصول کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں!