موت العالِم موت العالَم  نامور سائنسدان ڈاکٹر زغلول النجارؒاس دار فانی سے رخصت ہوئے 

موت العالِم موت العالَم نامور سائنسدان ڈاکٹر زغلول النجارؒاس دار فانی سے رخصت ہوئے 

موت العالِم موت العالَم

نامور سائنسدان ڈاکٹر زغلول النجارؒاس دار فانی سے رخصت ہوئے 

9 نومبر 2025 کو عالمِ اسلام نے علم و ایمان کے سنگم پر کھڑے اُس عظیم مفکر کو الوداع کہا جو چھ دہائیوں تک قرآن کے سائنسی اعجاز کو دنیا کے سامنے لاتے رہے۔

 ڈاکٹر زغلول راغب النجارؒ (1933–2025) مصر کے ممتاز سائنسدان، مفسرِ قرآن، اور داعیِ اسلام تھے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف ویلز سے جیولوجی میں ڈاکٹریٹ حاصل کی اور دنیا بھر کی جامعات میں تدریس و تحقیق کے فرائض انجام دیے۔

 ان کی خدمات کا دائرہ وسیع تھا — سعودی عرب، کویت، قطر، امریکا اور برطانیہ کی جامعات میں شعبۂ ارضیات کے بانی و رہنما رہے۔

 انہوں نے 45 سے زائد کتابیں لکھیں، جن میں الاعجاز العلمي في القرآن والسنة اور قصة الخلق نمایاں ہیں۔

اعجازِ علمی کے میدان میں وہ پیشرو تھے۔ کہتے تھے:

"یہ کتاب اُس نبی پر نازل ہوئی جو اُمی تھے، مگر اس میں ایسے علمی حقائق ہیں جن پر آج کی سائنس حیران ہے۔"

ٹی وی پروگرام العلم والإيمان کے ذریعے انہوں نے لاکھوں نوجوانوں کے دلوں میں ایمان اور علم کی روشنی جگائی۔

 2006 میں انہیں ’’شخصیۃ العام الإسلامیۃ‘‘ کا عالمی اعزاز ملا۔

9 نومبر کو اردن میں ان کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔

 امت نے ایک ایسے درویشِ سائنسدان کو کھو دیا جس نے پتھروں، پہاڑوں اور کہکشاؤں میں خالقِ کائنات کی قدرت تلاش کی۔

ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے:

 "قرآن کو صرف پڑھو نہیں — اسے دیکھو زمین پر، آسمان میں، اپنے وجود میں۔ ہر چیز میں ایک آیت ہے اُن کے لیے جو غور کریں۔"

رحمہ الله رحمة واسعة 🌿

اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں اور مزید اہم معلومات کے حصول کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں



اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں اور مزید اہم معلومات کے حصول کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں!



 

Back to blog