پاکستان میں پڑھی لکھی شہری لڑکیاں جلد شادی سے کیوں نہیں کرنا چاہتیں  ؟ کاش ہم نے کچھ تعلیم قرآ ن اور آ پ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی سے بھی حاصل کی ہوتی!

پاکستان میں پڑھی لکھی شہری لڑکیاں جلد شادی سے کیوں نہیں کرنا چاہتیں ؟ کاش ہم نے کچھ تعلیم قرآ ن اور آ پ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی سے بھی حاصل کی ہوتی!

  پاکستان میں پڑھی لکھی شہری لڑکیاں جلد شادی سے کیوں نہیں کرنا چاہتیں  ؟

کاش ہم نے کچھ تعلیم قرآ ن اور آ پ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی سے بھی حاصل کی ہوتی! 

🧠 معاشرتی مشاہدہ:
پاکستان کے بڑے شہروں میں تعلیم یافتہ لڑکیوں کی جانب سے جلد شادی نہ کرنے یا اسے مؤخر کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

📊 گیلپ پاکستان کے مطابق:

  • 1990 میں 18 سال کی عمر تک شادی کرنے والی لڑکیوں کا تناسب 41٪ تھا

  • 2023 میں یہ تناسب گھٹ کر صرف 29٪ رہ گیا ہے
    (ماخذ: پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے، گیلپ پاکستان تجزیہ)

    متعدد والدین، لڑکیاں اور سماجی ماہرین نے جن وجوہات کی نشان دہی کی:

  • 🎓 اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کی خواہش

  • 💼 مالی خودمختاری اور کیریئر

  • ❤️ پسند کے رشتوں کی کمی

  • 🏡 سسرال کی غیر ضروری توقعات

  • 😔 والدین کی وفات یا گھریلو دباؤ

📉 نتیجہ:
اس وقت پاکستان میں شہری متوسط طبقے میں شادی اب صرف سماجی ذمہ داری نہیں رہی — بلکہ ایک مکمل پروجیکٹ بن چکی ہے، جس کے لیے:

  • مالی استحکام

  • جذباتی پختگی

  • اور ذاتی اعتماد ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

🚨 لیکن خطرہ یہ ہے کہ…
اگر یہ رجحان بہت دیر تک جاری رہا — تو:

  • 🔻 شرحِ پیدائش متاثر ہو سکتی ہے

  • 👵 آبادی کی عمر رسیدگی کا بحران جنم لے سکتا ہے (چین کی طرح)

  • 💔 خاندانی نظام مزید کمزور ہو سکتا ہے
    🕋 اسلامی نکتۂ نظر :

📖 قرآنِ مجید فرماتا ہے:

تم میں سے جو  مرد   عورت  بے  نکاح  کےہوں ان کا  نکاح  کر دو اور اپنے  نیک  بخت  غلام  اورلونڈیوں کا بھی اگر وہ مفلس بھی ہوں گےتو اللہ تعالٰی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا اللہ تعالٰی کشادگی والا اورعلم والا ہے ۔
(سورۃ النور: 32)

🔍 تشریح:
اسلام غربت یا تعلیم کو نکاح کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھتا — بلکہ اسباب کے ساتھ توکل کی تعلیم دیتا ہے۔

 


 

🤍 نبی کریم ﷺ نے فرمایا:


حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : نوجوانوں کی جماعت ! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا ۔ بخاری 5066

🌟 تشریح:
شادی صرف جسمانی ضرورت نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل اور سماجی حفاظت کا ذریعہ بھی ہے۔

 


 

🔔 دعوتِ فکر:
ہمیں سوچنا ہو گا کہ:

  • کیا ہمارا معاشرہ صرف کیریئر اور ڈگری کا مرکز بن گیا ہے — اور محبت، قربانی، اور خاندان کو فراموش کر بیٹھا ہے؟

  • 📢 یہ پیغام ہر لڑکی، ہر والدین، اور ہر استاد تک پہنچانا ضروری ہے!
    تاکہ ہم سب اس اہم سماجی تبدیلی کو سمجھ سکیں، اس پر کھل کر بات کر سکیں — اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں۔



اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

انجمن خدام القرآن سرگودھا کے زیر اہتمام تعمیر زندگی کے عنوان سے ایک ہمہ جہت ٹریننگ کورس منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ کورس خصوصی طور پر ان افراد کے لئے تیار کیا گیا ہے جو ایک کامیاب، مطمئن اور متوازن زندگی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ 

اس لئے خواہش ہے کہ 25 سال سے بڑے افراد ضرور اس سے استفادہ کریں۔ 

اس کورس میں زندگی کے وہ تمام اہم گوشے شامل کرنے  کی کوشش کی گئی ہے جو بہتر ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کرم فرمائیں تو زندگی اطمینان اور توازن کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔ 

چنانچہ اس کورس میں خود آگہی اور اپنے نفس کی تربیت  پربھی دھیان دیا گیا ہے، اور پھر بطور سربراہ خاندان ہمیں کن خصوصیات کو اپنانے کی ضرورت ہے، اسی طرح دین، دنیا، غم، خوشی، گھر کاروبار وغیرہ میں بہترین توازن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مالی معاملات کے مختلف پہلوؤں پر بھی سیکھنے سکھانے کو بہت کچھ رکھا گیا ہے۔ 

یہ کورس محترم عبدالخالق مغل صاحب کروائیں گے 

2000 رجسٹریشن فیس رکھی گئی ہے۔ الحمدللہ انجمن خدام القرآن یہ کورس اے سی ہال میں منعقد کروا رہی ہے۔ خواتین کے لئے بھی الگ ہال میں باہردہ انتظام ہے۔  آپ اعتماد کے ساتھ اس کورس میں حصہ لے سکتے ہیں۔



Back to blog