کھانسی کے شربت سے اموات کی تعداد بھارت کی مدھیہ پردیش ریاست میں 24 تک پہنچ گئی۔

کھانسی کے شربت سے اموات کی تعداد بھارت کی مدھیہ پردیش ریاست میں 24 تک پہنچ گئی۔

نئی دہلی: بھارت کی وسطی ریاست مدھیا پردیش میں کھانسی کے شربت سے مبینہ طور پر ہونے والی اموات کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے، حکام نے جمعہ کو تصدیق کی۔

زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات گزشتہ ماہ کے دوران ہوئیں، جو کھانسی کے شربت "کولڈرف" (Coldrif) پینے کے بعد گردوں کے فیل ہونے سے جاں بحق ہوئے۔

ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق:

“ملاوٹ شدہ کھانسی کے شربت سے بچوں کی اموات کی تعداد 25 ہو گئی ہے، تاہم حکام نے اب تک 24 ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق کی ہے، ایک بچے کی موت کی تصدیق ابھی باقی ہے۔”

ان میں سے 20 سے زائد اموات چھندواڑا ضلع سے رپورٹ ہوئیں۔

یہ کھانسی کا شربت سریسان فارماسیوٹیکلز (Sresan Pharmaceuticals) نے تیار کیا تھا، جو ریاست تمل ناڈو کے کانچی پورم علاقے میں واقع ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں اس شربت میں 45 فیصد سے زائد ڈائی ایتھائلین گلائکول (Diethylene Glycol) پایا گیا، جو ایک زہریلا صنعتی کیمیکل ہے۔

جمعرات کے روز پولیس نے کمپنی کے مالک گوویندن رنگاناتھن کو چنئی میں واقع اس کے گھر سے دو ملازمین سمیت گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد کمپنی کو مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

رنگاناتھن پر غیر ارادی قتل (Culpable Homicide)، ادویات میں ملاوٹ، اور ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھارت کے ادویات کی حفاظت کے نظام میں خامیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی غیر محفوظ دوائیں غیر منظم سپلائی چین کے ذریعے دیگر ممالک تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔
اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں اور مزید اہم معلومات کے حصول کے لیے
ہمارے چینل کو فالو کریں!

Back to blog